امیر امام — شاعر کی تصویر

میرے جیسے کچھ نئے چہرے بنانے کے لیے — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

میرے جیسے کچھ نئے چہرے بنانے کے لیے

میرے جیسے کچھ نئے چہرے بنانے کے لیے
میری مٹی اس زمیں کے کارخانے کے لیے
ایک سجدہ میرا سر جھکنے نہیں دیتا کبھی
جو بچا رکھا ہے تیرے آستانے کے لیے
جسم میں پیوست دھوپوں نے نہیں جانے دیا
بارشوں میں جب کبھی نکلا نہانے کے لیے
ایک پتھر ہے جسے آئینہ کرنا ہے مجھے
دوسرا پتھر ہے اک آئینہ خانے کے لیے
چڑچڑاہٹ قہقہے مونچھیں لطیفے شاعری
خود کو ظاہر کر دیا تجھ کو چھپانے کے لیے
ان سلگتے منظروں سے زخم خوردہ آنکھ کو
کر دیا مامور خوابوں کو اٹھانے کے لیے

Mere jaise kuchh naye chehre banane ke liye

Mere jaise kuchh naye chehre banane ke liye
Meri miṭṭi is zameen ke karkhane ke liye
Ek sajda mera sar jhukne nahīñ deta kabhī
Jo bacha rakha hai tere aastane ke liye
Jism mein paiwast dhoopoñ ne nahīñ jaane diya
Barishoñ mein jab kabhī nikla nahane ke liye
Ek patthar hai jise aaina karna hai mujhe
Doosra patthar hai ek aaina-khane ke liye
Chirchiṛahaṭ, qehqahe, moonchheñ, lateefe, shayari
Khud ko zahir kar diya tujh ko chhupane ke liye
In sulagte manzarōñ se zakhm-khurda aankh ko
Kar diya mamoor khwaboñ ko uṭhane ke liye

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام