امیر امام — شاعر کی تصویر

پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئی — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئی

پیڑوں کی چھانو تازہ ہوا چھین لی گئی
ان بستیوں سے ان کی فضا چھین لی گئی
ان کے بلند ہاتھ قلم کر دئے گئے
ان کے لبوں سے ان کی دعا چھین لی گئی
بے خد و خال شور کا حصہ بنا دیا
ایسے صدائے خلق خدا چھین لی گئی
جینا وہ چاہتے تھے تو جینے نہیں دیا
مرنے چلے تو ان سے قضا چھین لی گئی
پھر ظالموں نے آگ لگا دی خیام میں
پھر عورتوں کے سر سے ردا چھین لی گئی

Peṛoñ kī chhaañv taaza hawa chhīñ li gaī

Peṛoñ kī chhaañv taaza hawa chhīñ li gaī
In bastiyoñ se un kī faza chhīñ li gaī
In ke buland haath qalam kar diye gaye
In ke laboñ se un kī dua chhīñ li gaī
Be-khud-o-khaal shor ka hissa bana diya
Aise sada-e-khalq-e-khuda chhīñ li gaī
Jeena woh chahte the to jeene nahīñ diya
Marne chale to un se qaza chhīñ li gaī
Phir zalimoñ ne aag laga di khiyam mein
Phir aurtoñ ke sar se rida chhīñ li gaī

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام