سب سمجھتے ہیں کہ ہم جیت کے قابل نہیں ہیں
صرف اتنا ہے ابھی کھیل میں شامل نہیں ہیں
آستینوں پہ لہو ہے تو لہو ہے اپنا
اپنے قاتل ہیں کسی اور کے قاتل نہیں ہیں
کبھی تیشہ کو اٹھائے کبھی تلوار لیے
اب یہ بازو تری گردن میں حمائل نہیں ہیں
ہم برے ہیں کہ نتیجے میں ہوس کے ہیں یہاں
ہم برے ہیں کہ کسی عشق کا حاصل نہیں ہیں
اور دنیا فقط آنکھوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ہم وہ منظر ہیں جو آنکھوں کے مقابل نہیں ہیں
جو ہیں ساحل وہ سمندر نہیں ہو سکتے تھے
جو سمندر ہیں تو یوں ہیں کہ وہ ساحل نہیں ہیں
پھر کسی موہنی صورت سے محبت ہوگی
ابھی غصے میں ہیں پر حسن سے بد دل نہیں ہیں
امیر امام
Sab samajhte hain ke hum jeet ke qabil nahin hain
Sirf itna hai abhi khel mein shamil nahin hain
Aasteenon pe lahoo hai to lahoo hai apna
Apne qatil hain kisi aur ke qatil nahin hain
Kabhi tesha ko uthaye kabhi talwar liye
Ab yeh bazoo teri gardan mein hamaail nahin hain
Hum bure hain ke nateeje mein havas ke hain yahan
Hum bure hain ke kisi ishq ka hasil nahin hain
Aur duniya faqat aankhon ke siwa kuch bhi nahin
Hum woh manzar hain jo aankhon ke muqabil nahin hain
Jo hain sahil woh samandar nahin ho sakte the
Jo samandar hain to yun hain ke woh sahil nahin hain
Phir kisi mohni soorat se mohabbat hogi
Abhi ghusse mein hain par husn se bad dil nahin hain
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں