صحرا سمیٹ لیں یہ سمندر سمیٹ لیں
آنکھیں تمام پیاس کے منظر سمیٹ لیں
اے صبح تھوڑی دیر کی مہلت کہ راہگیر
جاتے ہیں بس یہ رات کا بستر سمیٹ لیں
ہر صبح خود کو جسم کے باہر بکھیر کر
ہر شام خود کو جسم کے اندر سمیٹ لیں
سر پر اس آسمان کے ہونے سے فائدہ
بہتر ہے یہ پھٹی ہوئی چادر سمیٹ لیں
ہنستے ہیں ہم کو دیکھ کے اہل قفس مگر
پر پھڑپھڑائے جائیں گے کیا پر سمیٹ لیں
اس خامشی میں آج بھی وسعت ہے اس قدر
بڑھ کر ہوائے وقت کی صرصر سمیٹ لیں
امیر امام
Sehra sameṭ lein ye samandar sameṭ lein
Aankhen tamām pyaas ke manzar sameṭ lein
Aye subh thori der ki mohlat ke raahgeer
Jaate hain bas ye raat ka bistar sameṭ lein
Har subh khud ko jism ke baahar bikheir kar
Har shaam khud ko jism ke andar sameṭ lein
Sar par is aasmaan ke hone se faayda
Behtar hai ye phaṭi hui chaadar sameṭ lein
Hanste hain hum ko dekh ke ahl-e-qafas magar
Par phaṛphaṛaaye jayenge kya par sameṭ lein
Is khamoshi mein aaj bhi wus'at hai is qadar
Baṛh kar hawa-e-waqt ki sarsar sameṭ lein
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں