شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے
تیرگی ہر سمت پھیلا کر ہوا خاموش ہے
صبح کو پھر شور کے ہمراہ چلنا ہے اسے
رات میں یوں دل دھڑکنے کی صدا خاموش ہے
کیسا سناٹا تھا جس میں لفظ کن کہنے کے بعد
گنبد افلاک میں اب تک خدا خاموش ہے
کچھ بتاتا ہی نہیں گزری ہے کیا پردیس میں
اپنے گھر کو لوٹتا ایک قافلہ خاموش ہے
اٹھ رہی ہے میری مٹی سے صدائے العطش
خالی مشکیزہ لئے اپنا گھٹا خاموش ہے
امیر امام
Sheher mein saare charaghon ki ziya khamosh hai
Tareegi har simt phaila kar hawa khamosh hai
Subah ko phir shor ke hamraah chalna hai use
Raat mein yun dil dhadakne ki sada khamosh hai
Kaisa sannata tha jis mein lafz 'kun' kehne ke baad
Gumbad-e-aflaak mein ab tak Khuda khamosh hai
Kuch batata hi nahin guzri hai kya pardes mein
Apne ghar ko laut-ta ek qaafila khamosh hai
Uth rahi hai meri mitti se sada-e-al-atash
Khaali mashkeezah liye apna ghata khamosh hai
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں