امیر امام — شاعر کی تصویر

سلگتی دھوپ برستی گھٹا نہیں آئی — امیر امام

شاعر

تعارف شاعری

سلگتی دھوپ برستی گھٹا نہیں آئی

سلگتی دھوپ برستی گھٹا نہیں آئی
ہمارے جسم پہ کوئی قبا نہیں آئی
تمھارے ساتھ بھی آئی نہ زندگی ہم تک
تمھارے بعد بھی ہم تک قضا نہیں آئی
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو کیا ہوا یارو
وہی ہوا کہ لبوں تک دعا نہیں آئی
وہ روشنی ہوئی کچھ بھی نظر نہیں آیا
وہ غلغلہ اٹھا کوئی صدا نہیں آئی
اٹھا بھی ابر تو ہم پر برس نہیں پایا
ہوا چلی بھی تو ہم تک ہوا نہیں آئی
تھکے ہوئے تھے زیادہ تو سو گئے اور کچھ
تمہاری یاد بھی حد سے سوا نہیں آئی

Sulagti dhoop barasti ghaṭa nahin aayi

Sulagti dhoop barasti ghaṭa nahin aayi
Hamare jism pe koi qaba nahin aayi
Tumhare saath bhi aayi na zindagi hum tak
Tumhare baad bhi hum tak qaza nahin aayi
Dua ko haath uṭhaye to kya hua yaaro
Wahi hua ki labon tak dua nahin aayi
Woh roshni hui kuchh bhi nazar nahin aaya
Woh ghalghala uṭha koi sada nahin aayi
Uṭha bhi abr to hum par baras nahin paaya
Hawa chali bhi to hum tak hawa nahin aayi
Thake hue the zyada to so gaye aur kuchh
Tumhari yaad bhi hadd se siwa nahin aayi

شاعر کے بارے میں

امیر امام

امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام