یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے
خود کو سمیٹنے میں بکھرنا پڑا مجھے
پھر خواہشوں کو کوئی سرائے نہ مل سکی
اک اور رات خود میں ٹھہرنا پڑا مجھے
محفوظ خامشی کی پناہوں میں تھا مگر
گونجی اک ایسی چیخ کہ ڈرنا پڑا مجھے
اس بار راہ عشق کچھ اتنی طویل تھی
اس کے بدن سے ہو کے گزرنا پڑا مجھے
پوری امیر امام کی تصویر جب ہوئی
اس میں لہو کا رنگ بھی بھرنا پڑا مجھے
امیر امام
Ye kaar-e-zindagi tha to karna pada mujhe
Khud ko sametne mein bikharna pada mujhe
Phir khwahishon ko koi saraaye na mil saki
Ik aur raat khud mein thaharna pada mujhe
Mehfooz khamoshi ki panaahon mein tha magar
Goonji ik aisi cheekh ki darna pada mujhe
Is baar raah-e-ishq kuchh itni taweel thi
Us ke badan se ho ke guzarna pada mujhe
Poori Ameer Imam ki tasveer jab hui
Is mein lahu ka rang bhi bharna pada mujhe
امیر امام معاصر اردو شاعری کے اُن اہم اور ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو غزل کو ایک تازہ احساس، منفرد لہجہ اور فکری گہرائی عطا کی۔ وہ 30 جون 1984ء کو سنبھل، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انگریزی ادب کے وسیع مط...
مکمل تعارف پڑھیں