اسعد بدایونی — شاعر کی تصویر

زمیں کو آسماں لکھا گیا ہے — اسعد بدایونی

شاعر

تعارف شاعری

زمیں کو آسماں لکھا گیا ہے

زمیں کو آسماں لکھا گیا ہے
یقینوں کو گماں لکھا گیا ہے
جو کہنا تھا کبھی منہ سے نہ نکلا
جو لکھنا تھا کہاں لکھا گیا ہے
اداسی کا قصیدہ اس برس بھی
سر دیوار جاں لکھا گیا ہے
چراغوں کو ہواؤں کا پیمبر
خموشی کو زباں لکھا گیا ہے
مرے لفظوں سے اتنی برہمی کیوں
بہت کچھ رائیگاں لکھا گیا ہے

Zameen ko aasman likha gaya hai

Zameen ko aasman likha gaya hai
Yaqeenon ko guman likha gaya hai
Jo kehna tha kabhi munh se na nikla
Jo likhna tha kahan likha gaya hai
Udasi ka qaseeda is baras bhi
Sar-e-deewar-e-jaan likha gaya hai
Chiraghon ko hawaon ka paighambar
Khamoshi ko zaban likha gaya hai
Mere lafzon se itni barhami kyon
Bahut kuchh raaigan likha gaya hai

شاعر کے بارے میں

اسعد بدایونی

اسد بدایونی جدید اردو شاعری کے اہم، سنجیدہ اور معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے باعث ادبی د...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام