search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ہوم
›
اسد بدایونی
›
شاعری
اسد بدایونی کی شاعری، غزلیں اور نظمیں
شاعر
تعارف
شاعری
کلامِ شاعر
ہم اہل خوف
تلخیاں
یہ جو شام زر نگار ہے
ایک نظم
جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے
بارش کی نظم
جلوہ ساماں رخ جاناں نہ ہوا تھا سو ہوا
شعلۂ تنہائی سے سب بام و در جل جائیں گے
رہی اگرچہ نگاروں کی مہربانی بھی
سجے سجائے ہوئے سبز منظروں سے نہ جائیں
تھا مکان دل کسی اور کا پہ رہا بسا کوئی دوسرا
چمک رہا ہے مرا سر بھی میں بھی دنیا بھی
اس کی باتوں میں ہے شامل زندگانی کس قدر
ملال عمر گریزاں کا کرتے رہتے ہیں
ہجر کے موسم میں یادیں وصل کی راتوں میں ہیں
ابھی زمین کو سودا بہت سروں کا ہے
ہوا ہوس کے علاقے دکھا رہی ہے مجھے
مرے شجر تجھے موسم نیا بناتے رہیں
اس ابر سے بھی قباحت زیادہ ہوتی ہے
عشق میں ہجر کے صدمے بھی اٹھائے نہیں ہیں
یقیں سے نکلے تو جیسے گماں کی زد میں ہیں
سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا
جو عکس یار تہہ آب دیکھ سکتے ہیں
دل وحشی تجھے اک بار پھر زنجیر کرنا ہے
طلب کی راہوں میں سارے عالم نئے نئے سے
شب سیاہ سے جو استفادہ کرتے ہیں
ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں
جلے چراغ بھلا کیسے تا سحر کوئی
موسم ہجر تو دائم ہے نہ رخصت ہوگا
وقت کی بازگشت سے کب یہ ہوا کہ ڈر گئے
وہ جنہیں دشت انا سے پار ہونا تھا ہوئے
مجھے بھی وحشت صحرا پکار میں بھی ہوں
نہ احتجاج نہ آوارگی میں دیکھ مجھے
اداس رات کا دکھ جانتا کوئی بھی نہ تھا
یہی نہیں کہ مرا گھر بدلتا جاتا ہے
سب کے پیروں میں وہی رزق کا چکر کیوں ہے
کیوں مجھ کو گھنی چھاؤں میں مرنے نہیں دیتا
ابھی ہوس کے ہزاروں بہانے زندہ ہیں
خوشی بھی اب سراپا غم لگے ہے
سیاہ رات سے ہم روشنی بناتے ہیں
سفر بھی کوئی نہ ہو رہ گزر بھی کوئی نہ ہو
دلوں پر خوف بھی طاری بہت ہے
دل و نظر کو لہو میں ڈبونا آتا ہے
کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے
پرانے گھر سے نکل کر نئے مکان کی سمت
ہر اک یقین کو ہم نے گماں بنا دیا ہے
سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی
میری نفرت بھی ہے شعروں میں مرے پیار کے ساتھ
پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ
کھلے ہیں دشت میں نفرت کے پھول آہستہ آہستہ
خاک تو ہم بھی ہر اک دشت کی چھانے ہوئے ہیں
کچھ لوگ جی رہے ہیں خدا کے بغیر بھی
وہ آدمی جو تری آرزو میں مرتا ہے
زمیں کو آسماں لکھا گیا ہے
داستاں وصل کی اک بات سے آگے نہ بڑھی
تلاش رزق میں دیوان کرتا رہتا ہوں
راستہ کوئی سفر کوئی مسافت کوئی
آنکھوں نے بہت دن سے قیامت نہیں دیکھی
نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو
جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا
بڑے نادان تھے ہم ریت کو آب رواں سمجھے
ترا وصال ہے بہتر کہ تیرا کھو جانا
عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا
روشنی میں کس قدر دیوار و در اچھے لگے
مرے لوگ خیمۂ صبر میں مرے شہر گرد ملال میں
مری انا مرے دشمن کو تازیانہ ہے
نظر اٹھا کے جو دیکھا ادھر کوئی بھی نہ تھا
وقت اک دریا ہے دریا سب بہا لے جائے گا
حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا
یہ دھوپ چھاؤں کے اسرار کیا بتاتے ہیں
شاخ سے پھول سے کیا اس کا پتہ پوچھتی ہے
یہ لوگ خواب بہت کربلا کے دیکھتے ہیں
وہ ایک نام جو دریا بھی ہے کنارا بھی
کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے
ہوا کے پاس بس اک تازیانہ ہوتا ہے
وہ لوگ بھی کیسے لوگ ہیں جو کوئی بات فضول نہیں کرتے
دیار عشق کی شمعیں جلا تو سکتے ہیں
سیل گریہ کا سینے سے رشتہ بہت
جس کو ہونا ہے وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو جائے
پوچھو اگر تو کرتے ہیں انکار سب کے سب
پتھر پانی ہو جاتے ہیں
سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں
یہ زندہ رہنے کا موسم گزر نہ جائے کہیں
گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا
سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں
بچھڑ کے تجھ سے کسی دوسرے پہ مرنا ہے
شاعر کے بارے میں
About Poet
مکمل تعارف پڑھیں
دیگر کلام
‹ ہم اہل خوف
‹ تلخیاں
‹ یہ جو شام زر نگار ہے
‹ ایک نظم
‹ جو لوگ راتوں کو جاگتے تھے
‹ بارش کی نظم