11 اشعار

یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے

Yaqeen kar ke haqeeqat mein maar denge tujhe

یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے

«یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھے» صائمہ کامران کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھےیہ اہلِ تخت رعونت میں مار دیں گے تجھے

سوال جب بھی اٹھانے لگے گا غیرت کایہ بے ضمیر ہیں،غیرت میں مار دیں گے تجھے

یہاں پہ اہل ِ کرم سے بھی فاصلے رکھناگلے ملیں گے۔۔۔محبت میں مار دیں گے تجھے

اگر ہوں حق میں شواہد بھی تو خیال رہےوڈیرے آکے۔۔عدالت میں مار دیں گے تجھے

فقیہہِ شہر کی تقلید کر۔۔وگرنہ یہاںمرید۔۔اندھی عقیدت میں مار دیں گے تجھے

ابھی شعور نہیں ہے انہیں قیادت کامشیر تیرے،حماقت میں مار دیں گے تجھے

نئ نقب زنی پکڑی اگر لٹیروں کیپرانے چور حمایت میں مار دیں گے تجھے

یہ کامیابیاں کھٹکیں گی جب نگاہوں میںترے رفیق،رقابت میں مار دیں گے تجھے

اگر رکھا گیا انعام تیرے سر پہ کبھییہ اپنے! اپنی حفاظت میں مار دیں گے تجھے

اگر ہے سوچ حسینی(رض)تو یہ بھی ثابت ہےکہ اہل ِ علم جہالت میں مار دیں گے تجھے

تجھے بھی صائمہ سودا ہے حق نوائی کاترے اصول۔۔۔ بغاوت میں مار دیں گے تجھے

— صائمہ کامران

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں