بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
کلام: کلیم عاجز
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےغزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے
بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاسنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہےغزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے
بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلاسنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
بیکسی ہے اور دل ناشاد ہےاب انہیں دونوں سے گھر آباد ہے
اب انہیں کی فکر میں صیاد ہےجن کے نغموں سے چمن آباد ہے
یقین کر کہ حقیقت میں مار دیں گے تجھےیہ اہلِ تخت رعونت میں مار دیں گے تجھے
سوال جب بھی اٹھانے لگے گا غیرت کایہ بے ضمیر ہیں،غیرت میں مار دیں گے تجھے