6 اشعار

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے

Woh jo uljhe uljhe khayal the; koi jaal the

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے

«وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھے» ساجد رحیم کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھےیہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!!

وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھےیہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!!

وہ جو تشنگی سر آب تھی ؛ مرا خواب تھییہ جو موج موج کا جام ھے ؛ ترے نام ھے..!!

وہ جو ٹمٹماتا چراغ تھا ؛ مرا داغ تھایہ جو نور ماہ تمام ھے ؛ ترے نام ھے

وہ جو آنسوؤں بھری رات تھی مری بات تھییہ جو قہقہوں بھری شام ھے ؛ ترے نام ھے۔۔!!

وہ جو راستوں کا غبار تھا ؛ کسے بار تھایہ جو منزلوں کا مقام ھے ؛ ترے نام ھے

— ساجد رحیم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں