بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا
کلام: محمد رفیع سودا
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھاہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا
روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخاجس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھاہم نے اسے ہر خار بیابان میں دیکھا
روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخاجس نور کو تو نے سر کنعان میں دیکھا
ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کاخون ہے سو دار پر ثابت مرے منصور کا
پونچھتے ہی پونچھتے گزرے ہے مجھ کو روز و شبچشم ہے یارب مری یا منہ کسی ناسور کا
وہ جو الجھے الجھے خیال تھے ؛ کوئی جال تھےیہ جو سلجھا سلجھا کلام ھے ؛ ترے نام ھے....!!!
وہ گماں کے جتنے پڑاؤ تھے ؛ مرے چاؤ تھےیہ یقیں جو مست خرام ھے ترے نام ھے..!!