شاہین عباس — شاعر کی تصویر

دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی — شاہین عباس

شاعر

تعارف شاعری

دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی

دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی
وہی رہتی تھی خاموشی نئی ہوتی نہیں تھی
اچانک مصرعۂ جاں سے بر آمد ہونے والے
کہاں ہوتا تھا تو جب شاعری ہوتی نہیں تھی
ہم ایسی روشنی میں رہ چکے ہیں جو سرا سر
تمہاری ہوتی تھی پر تم نے کی ہوتی نہیں تھی
کہو تو گفتگو سناؤں تم کو ان دنوں کی
ہمارے درمیاں جب بات بھی ہوتی نہیں تھی
ہنسی ہوتی تھی پر کرنے کو گریے کی جگہ بھی
ہنسی ہوتی تھی یا شاید ہنسی ہوتی نہیں تھی
دکھانا پڑتا تھا شعلہ اسے جب تو نہیں تھا
دیے کو دیکھنے سے روشنی ہوتی نہیں تھی
گھروں سے ہو کے آتے جاتے تھے ہم اپنے گھر میں
گلی کا پوچھتے کیا ہو گلی ہوتی نہیں تھی

Diya jalta na tha to shaam bhi hoti nahin thi

Diya jalta na tha to shaam bhi hoti nahin thi
Wahi rehti thi khamoshi nayi hoti nahin thi
Achanak misra-e-jaan se bar-aamad hone wale
Kahan hota tha tu jab shayari hoti nahin thi
Hum aisi roshni mein reh chuke hain jo sara sar
Tumhari hoti thi par tum ne ki hoti nahin thi
Kaho to guftugu sunaoon tum ko un dinon ki
Hamare darmiyan jab baat bhi hoti nahin thi
Hansi hoti thi par karne ko gire ki jagah bhi
Hansi hoti thi ya shayad hansi hoti nahin thi
Dikhaana padta tha shola use jab tu nahin tha
Diye ko dekhne se roshni hoti nahin thi
Gharon se ho ke aate jaate the hum apne ghar mein
Gali ka poochhte kya ho gali hoti nahin thi

شاعر کے بارے میں

شاہین عباس

ِشاہین عباس 29 نومبر 1965 کو شیخوپورہ،  پنجاب میں پیدا ہوئے اور انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ  ٹیکنالوجی لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ وہ پیشے کے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام