شاہین عباس — شاعر کی تصویر

گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں — شاہین عباس

شاعر

تعارف شاعری

گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں

گھر گھر کی شناخت کر رہا ہوں
میں بند گلی میں مر رہا ہوں
ہر رنگ کے اڑ رہے ہیں چھینٹے
تصویر میں سے گزر رہا ہوں
آ تجھ کو بھی کام سے لگا دوں
میں اپنے خلا کو بھر رہا ہوں
میں بات بدل بدل کے اپنی
اک ظلم تو عام کر رہا ہوں
موجود کہ خوش نہیں ہے مجھ سے
میں پچھلے حساب کر رہا ہوں
اب وقت کو مارتا ہوا میں
تاریخ میں سے گزر رہا ہوں

Ghar ghar ki shanakht kar raha hoon

Ghar ghar ki shanakht kar raha hoon
Main band gali mein mar raha hoon
Har rang ke ud rahe hain chheente
Tasveer mein se guzar raha hoon
Aa tujh ko bhi kaam se laga doon
Main apne khala ko bhar raha hoon
Main baat badal badal ke apni
Ek zulm to aam kar raha hoon
Maujood ke khush nahin hai mujh se
Main pichhle hisab kar raha hoon
Ab waqt ko maarta hua main
Tareekh mein se guzar raha hoon

شاعر کے بارے میں

شاہین عباس

ِشاہین عباس 29 نومبر 1965 کو شیخوپورہ،  پنجاب میں پیدا ہوئے اور انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ  ٹیکنالوجی لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ وہ پیشے کے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام