شاہین عباس — شاعر کی تصویر

میں دنیا کی خاطر ہوں دل ہونے والا — شاہین عباس

شاعر

تعارف شاعری

میں دنیا کی خاطر ہوں دل ہونے والا

میں دنیا کی خاطر ہوں دل ہونے والا
مرا عہد ہے مستقل ہونے والا
خدا ایسا تنہا کسی کو نہ رکھے
کوئی بھی نہ ہو جب مخل ہونے والا
پس آب و گل میں دکھا بھی چکا ہوں
تماشا سر آب و گل ہونے والا
سفینے بھرے آ رہے ہیں برابر
ہے دریا کہیں منتقل ہونے والا
وہی ایک ہم ہیں وہی ایک تم ہو
یہ عالم نہیں معتدل ہونے والا
لہو کے کنارے بھی زد پر ہیں دونوں
یہ کیا زخم ہے مندمل ہونے والا
مری راکھ دیکھو تو کیا مطمئن ہے
میں اک شخص تھا مشتعل ہونے والا

Main duniya ki khaatir hoon dil hone wala

Main duniya ki khaatir hoon dil hone wala
Mera ahd hai mustaqil hone wala
Khuda aisa tanha kisi ko na rakhe
Koi bhi na ho jab mukhal hone wala
Pas aab-o-gil mein dikha bhi chuka hoon
Tamasha sar-e-aab-o-gil hone wala
Safeene bhare aa rahe hain barabar
Hai darya kahin muntaqil hone wala
Wahi ek hum hi hain wohi ek tum ho
Yeh aalam nahin mo'tadil hone wala
Lahoo ke kinare bhi zad par hain donon
Yeh kya zakhm hai mundamil hone wala
Meri raakh dekho toh kya mutma'in hai
Main ik shakhs tha mushta'il hone wala

شاعر کے بارے میں

شاہین عباس

ِشاہین عباس 29 نومبر 1965 کو شیخوپورہ،  پنجاب میں پیدا ہوئے اور انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ  ٹیکنالوجی لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ وہ پیشے کے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام