شاہین عباس — شاعر کی تصویر

نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں — شاہین عباس

شاعر

تعارف شاعری

نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں

نام والے ہیں نہ یہ زخم نشاں والے ہیں
ہم نباہیں گے کہ ہم لوگ زباں والے ہیں
اب جو گھر ان پہ گرا ہے تو کھلے ہیں ورنہ
یہ مکیں لگتا نہیں تھا کہ مکاں والے ہیں
ٹھیک گزرے نہیں بازار سے شاید ہم لوگ
یہ جو چھینٹے ہیں یہ سب سود و زیاں والے ہیں
اتنی آسانی پریشان بھی کر سکتی ہے
ہم یقیں والے ہیں صاحب نہ گماں والے ہیں
ہم اگر رک گئے دنیا تو کہاں سنبھلیں گے
ہمیں جانے دے کہ ہم بار گراں والے ہیں
وہ زمانہ بدری ہجر میں دیکھی ہے کہ بس
ہم سمجھتے تھے کہ ہم کون و مکاں والے ہیں
دیکھنے والے ہمارے بھی کوئی خوش تو نہیں
ہم وہ جھونکے ہیں جو خاک گزراں والے ہیں

Naam wale hain na yeh zakhm nishaan wale hain

Naam wale hain na yeh zakhm nishaan wale hain
Hum nibaheinge ke hum log zabaan wale hain
Ab jo ghar un pe gira hai to khule hain warna
Yeh makeen lagta nahi tha ke makaan wale hain
Theek guzre nahi bazaar se shayad hum log
Yeh jo chheente hain yeh sab sood o ziyaan wale hain
Itni asaani pareshan bhi kar sakti hai
Hum yaqeen wale hain saahib na gumaan wale hain
Hum agar ruk gaye duniya to kahan sambhaleinge
Hamein jaane de ke hum baar e garaan wale hain
Woh zamana badri hijr mein dekhi hai ke bas
Hum samajhte the ke hum kaun o makaan wale hain
Dekhne wale hamare bhi koi khush to nahi
Hum woh jhonke hain jo khaak guzraan wale hain

شاعر کے بارے میں

شاہین عباس

ِشاہین عباس 29 نومبر 1965 کو شیخوپورہ،  پنجاب میں پیدا ہوئے اور انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ  ٹیکنالوجی لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ وہ پیشے کے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام