ریکارڈ شدہ ایکس سپیس 8 نومبر 2025

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے (بشیر بدر)

مہمان شاعر: بشیر بدر

20
سپیکرز
278
سامعین

سپیکرز

کسی سپیکر کو منتخب کریں — ان کا پیش کردہ کلام نیچے

بشیر بدر — مہمان شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر ایودھیا کی زمین پر15 فروری 1935 کو جنم لینے والے اس شاعر نے علی گڑھ کی دانش گاہوں سے علمِ ادب کی روشنی حاصل کی اور اردو غزل کو ایک نئی سادگی، ایک نئی چمک عطا کی۔ انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور بعد ازاں اردو میں ہی پی ایچ ڈی کی، ڈاکٹر صاحب نے میرٹھ کالج (اتر پردیش) میں اردو کے پروفیسر کے طور پر تدریس کی، بعد میں بھارت سرکار کے ثقافتی اور ادبی اداروں کے ساتھ بھی وابستہ رہے، ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ساحتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔ وہ سیاسی شاعری سے ہمیشہ دور رہے اور کہا کرتے تھے، سیاست عارضی ہوتی ہے، محبت دائمی۔ وہ ہر شعر لکھنے کے بعد کئی دن تک اس پر غور کرتے۔ ان کے شاگردوں کے مطابق وہ کہا کرتے تھے شعر کو لکھنا نہیں، پکنے دینا چاہیے۔ 1987 کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر جلا دیا گیا، ان کی نایاب کتابوں، مسودات اور ادبی ذخیرے کو آگ لگا دی گئی۔ اس حادثے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے نئی زندگی کا آغاز کیا، لیکن میرٹھ فسادا...

مکمل تعارف اور کلام ‹