ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
11 نومبر 2025
لوگ کہتے ہیں ساغر کو خدا یاد نہیں (ساغر صدیقی)
مہمان شاعر: ساغرصدیقی
24
سپیکرز
287
سامعین
سپیکرز
ساغرصدیقی — مہمان شاعر
اردو کے ایک نہایت حساس اور منفرد شاعر ساغر صدیقیؔ کو، جن کا اصل نام محمد اختر تھا۔ 1928ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ساغرؔ نے امرتسر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ نوعمری ہی سے ان میں شاعری کا ذوق نمایاں تھا۔ انہوں نے فارسی اور اردو کی روایتی تعلیم حاصل کی، لیکن باقاعدہ اعلیٰ تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ان کا رجحان کم عمری ہی میں تصوف، عشق اور تنہائی کی طرف بڑھنے لگا۔ 1947ء کی ہجرت کے بعد وہ لاہور میں سکونت پذیر ہوئے اور ریڈیو پاکستان، مشاعروں اور ادبی رسائل کے ذریعے اپنی شاعری کو عوام تک پہنچایا۔ کئی فلموں کے گیت ان کے لکھے ہوئے تھے، جن میں سے کچھ مقبول ہوئے لیکن ان کا مالی حق اکثر انہیں نہیں ملا۔
ساغرؔ نے ایک قریبی دوست کو کہا تھا “میں مر جاؤں گا تو لوگ میری قبر پر پھول چڑھائیں گے، مگر زندہ رہا تو کوئی میرا حال نہ پوچھے گا" یہ بات اس حد تک سچ ثابت ہوئی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی قبر آج بھی اہلِ ذوق کی زیارت گاہ ہے، مگر زندگی میں وہ بھوک، تنہائی اور گمنامی کے شکار رہے ساغرؔ اکثر اپنی شاعری کے مس...
ساغرؔ نے ایک قریبی دوست کو کہا تھا “میں مر جاؤں گا تو لوگ میری قبر پر پھول چڑھائیں گے، مگر زندہ رہا تو کوئی میرا حال نہ پوچھے گا" یہ بات اس حد تک سچ ثابت ہوئی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی قبر آج بھی اہلِ ذوق کی زیارت گاہ ہے، مگر زندگی میں وہ بھوک، تنہائی اور گمنامی کے شکار رہے ساغرؔ اکثر اپنی شاعری کے مس...