ریکارڈ شدہ ایکس سپیس
16 نومبر 2025
زندگی سے ڈرتے ہو زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں ن م راشد
مہمان شاعر: ن م راشد
12
سپیکرز
سپیکرز
ن م راشد — مہمان شاعر
ن م راشد، جن کا اصل نام نذر محمد راشد تھا، یکم اگست 1910 کو علی پور چٹھہ میں پیدا ہوئے اور اردو ادب میں جدید آزاد نظم کے بانی کے طور پر اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ سول سروس اور پھر اقوامِ متحدہ کے ادارے آئی ایل او سے وابستہ رہے، جس کے سبب ایران، نیویارک، جنیوا اور لندن میں طویل قیام نے ان کے فکری اور تخلیقی مزاج کو عالمی وسعت بخشی۔ فارسی زبان، رنگوں اور موسیقی سے گہری دلچسپی نے ان کی شاعری میں علامتی اور وجودی جہتوں کو مہمیز دی، جب کہ “ماورا”، “ایران میں اجنبی”، “لا = انسان” اور “گماں کا ممکن” جیسی کتابوں نے اردو شاعری میں ایک نئے فکری دھارے کی بنیاد رکھی۔
ن م راشد نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک متحرک مفکر اور تنقیدی مصنف بھی تھے۔ انہوں نے اردو ادب میں جدیدیت، وجودیت اور علامت پسندی کے موضوعات کو متعارف کروایا اور نوجوان شاعروں کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ گہرائی، تنہائی، انسان کی داخلی کشمکش اور روحانی تجربات کی...
ن م راشد نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک متحرک مفکر اور تنقیدی مصنف بھی تھے۔ انہوں نے اردو ادب میں جدیدیت، وجودیت اور علامت پسندی کے موضوعات کو متعارف کروایا اور نوجوان شاعروں کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ گہرائی، تنہائی، انسان کی داخلی کشمکش اور روحانی تجربات کی...