باسط میر کی آواز میں
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26
«اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے باسط میر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں
اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پرجاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں