مقرر

باسط میر

@BasitMirali1

4
پیش کردہ کلام
5
محفلوں میں شرکت
باسط میر کی آواز میں

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26

«اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے باسط میر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں

اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پرجاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تیکوں یاد ہوسی میں آکھیا ہم دلدار میٹھا تو چھوڑ ویسیں Taekon yaad hosi mein aakheya hum dildaar meetha tu chhor waisin شاکرشجاع آبادی آواز میں دستیاب
  2. 02 کھول کتاب تے ڈس قاضی اودوں وقت نماز اودوں یار آ گئے Khol kitaab te dass Qaazi odon waqt namaz odon yaar aa gaye شاکرشجاع آبادی آواز میں دستیاب
  3. 03 میڈا مالک دے توفیق میکوں میں ونج کے تیڈا گھر دیکھاں Maeda Maalik de taufeeq maikoon main wanj ke taeda ghar dekhaan شاکرشجاع آبادی آواز میں دستیاب