7 اشعار

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

Ab teri zarurat bhi bahut kam hai meri jaan

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں

«اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے باسط میر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں

اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پرجاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں

رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تابتصویر پریشانئ عالم ہے مری جاں

یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایتیہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں

ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلطمایوس نہ ہو اور کوئی دم ہے مری جاں

یہ تیری توجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سےہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں

اے نزہت مہتاب ترا غم ہے مری زیستاے نازش خورشید ترا غم ہے مری جاں

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں