اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں
کلام: حبیب جالب
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں
اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پرجاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاںاب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں
اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پرجاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں