گریس کی آواز میں
یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے گریس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔
یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤعشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ
یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیںآؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ