اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
کلام: کلیم عاجز
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہوروز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤںچلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہوروز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤںچلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤعشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ
یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیںآؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ