9 اشعار

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ

Yeh Samandar Hai Kinare Hi Kinare Jaao

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ

«یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے گریس نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤعشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ

یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیںآؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ

دل کی بازی لگے پھر جان کی بازی لگ جائےعشق میں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ

کام بن جائے اگر زلف جنوں بن جائےاس لیے اس کو سنوارو کہ سنوارے جاؤ

کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیںجس جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ

ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلابتم اگر توڑنے جاتے ہو ستارے جاؤ

ڈوبنا ہوگا اگر ڈوبنا تقدیر میں ہےچاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ

تم ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہواآج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ

موت سے کھیل کے کرتے ہو محبت عاجزؔمجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں