مقرر

حماد ابراہیم

@HammadIbraheem1

26
پیش کردہ کلام
41
محفلوں میں شرکت
حماد ابراہیم کی آواز میں

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا

کلام: انجم سلیمی · محفل: تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی · 2026-01-07

«درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتاعشق میں بابا ایک جنم سے کام نہیں چل سکتا

بہت دنوں سے مجھ میں ہے کیفیت رونے والیدرد فراواں سینے میں کہرام نہیں چل سکتا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا Ek baada shabab ka kya kya suroor tha مبارک عظیم آبادی
  2. 02 سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا Suraj ki tarah qarya-e-mahtab mein aaya اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  3. 03 کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے Kin ke khaliq kabhi mahol judagana bane راکب مختار آواز میں دستیاب
  4. 04 اعتبار نظر کریں کیسے Aitbar-e-nazar karein kaise باقی صدیقی آواز میں دستیاب
  5. 05 اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے Ab is ghar ki abadi mehmanon par hai زہرا نگاہ آواز میں دستیاب
  6. 06 کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ Kahan Gaye Mere Dildar o Ghamgusar Se Log زہرا نگاہ آواز میں دستیاب
  7. 07 بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے Baitha hooN sham'a-e-ishq farozaaN kiye hue افقر موہانی آواز میں دستیاب
  8. 08 وعدۂ وصل یار نے مارا Vaada-e-vasl-e-yaar ne maara افقر موہانی آواز میں دستیاب