اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
کلام: مبارک عظیم آبادی
اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھاجو مرمٹا کسی پہ میں مجرم ضرور تھا
یہ آج بھی قصور ہے، کل بھی قصور تھابرقع اٹھا جو رُخ سے، حیا بن گئی نقاب
دل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیں مبارک عظیم آبادی
مہمان شاعر: مبارک عظیم آبادی
اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھاجو مرمٹا کسی پہ میں مجرم ضرور تھا
یہ آج بھی قصور ہے، کل بھی قصور تھابرقع اٹھا جو رُخ سے، حیا بن گئی نقاب