5 اشعار

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا

Dard virasat pa lene se naam nahin chal sakta

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا

«درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا» انجم سلیمی کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی» میں 7 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتاعشق میں بابا ایک جنم سے کام نہیں چل سکتا

بہت دنوں سے مجھ میں ہے کیفیت رونے والیدرد فراواں سینے میں کہرام نہیں چل سکتا

تہمت عشق مناسب ہے اور ہم پر جچتی ہےہم ایسوں پر اور کوئی الزام نہیں چل سکتا

چم چم کرتے حسن کی تم جو اشرفیاں لائے ہواس میزان میں یہ دنیاوی دام نہیں چل سکتا

آنکھ جھپکنے کی مہلت بھی کم ملتی ہے انجمؔفقر میں کوئی تن آساں دو گام نہیں چل سکتا

— انجم سلیمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں