فرحت شاہ کی آواز میں
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
کلام: فرحت عباس شاہ · محفل: کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ) · 2025-12-09
«اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے فرحت شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہےسبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتریتو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے