30 اشعار

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے

Isi se hota hai zaahir jo haal dard ka hai

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے

«اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے فرحت شاہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہےسبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے

سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتریتو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے

اب اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں رکھنایہ بات طے ہوئی لیکن سوال درد کا ہے

یہ دل، یہ اُجڑی ہوئی چشمِ نم، یہ تنہائیہمارے پاس تو جو بھی ہے مال درد کا ہے

یہ جھانک لیتی ہے دل سے جو دوسرے دل میںمیری نگاہ میں سارا کمال درد کا ہے

اسیر ہے میری شاخ نصیب پت جھڑ میںمیرے پرندۂ دل پر بھی جال درد کا ہے

بدل گئے میرے حالات دل تو کیا ہو گایہ ایسی بات ہے جس میں زوال درد کا ہے

دلوں پہ زندہ تھا دل ہی نہیں رہے ہیں یہاںاب ایسے شہر میں جینا محال درد کا ہے

جمود توڑتی آنکھیں، سکوت توڑتے لبیہ ناک نقشہ یہ سب خدّ و خال درد کا ہے

سُنا ہے تیرے نگر جا بسا ہے بیچاراسُناؤ کیسا وہاں حال چال درد کا ہے

وگرنہ خار و خزاں کے سوا نہیں کچھ بھیبس ایک پھول میری ڈال ڈال درد کا ہے

اُکھڑتی جاتی ہے دیوانہ وار ایڑیوں سےزمینِ جاں پہ ہماری دھمال درد کا ہے

فقیر بیٹھے ہوئے ہیں بہت سکون سے ہمتیری جدائی کی کُٹیا ہے پیال درد کا ہے

کہ ہم نے کس کے لیے جاں عذاب میں ڈالیہمیں تو آج بھی خود سے ملال درد کا ہے

ہمارے سینے میں دل کی جگہ پہ پتھر ہےاِسی لیے تو یہاں ایسا کال درد کا ہے

تہاری چاہ نے ڈھونڈی تھی میری آبادییہ گھاؤ سینے کی بستی میں کھال درد کا ہے

یہ عشق ہے اِسے تیمار داریاں کیسیاسے نہ پوچھ یہ بوڑھا نڈھال درد کا ہے

ہم اس کو دیکھتے جاتے ہیں، روتے جاتے ہیںیہ صحنِ شب میں پڑا ہے جو تھال درد کا ہے

نہ تم میں سکھ کی کوئی بات ہے نہ مجھے میں ہےتمہارا اور میرا ملنا وصال درد کا ہے

ابھی کہیں سے کڑی کوئی بھی نہیں ٹوٹیابھی تو سلسلہ سارا بحال درد کا ہے

میری طرف سے گزر کا خیال رہنے دویہ راستہ بھی بہت پائمال درد کا ہے

دل و نظر تو رہیں گے سکون میں لیکنشب فراق مجھے احتمال درد کا ہے

کسی کا درد ہو اپنا سمجھنے لگتے ہیںہمارے پاس یہی کچھ ماٌل درد کا ہے

یہیں کہیں میرے اندر کوئی تڑپتا ہےیہیں کہیں پہ کوئی یرغمال درد کا ہے

اسی لیے تو ہمیں عجز کا قرینہ ہےہماری ذات میں جاہ و جلال درد کا ہے

ہے مار رکھنے کے در پئے تری مسیحائیجو دوڑا پھرتا ہے مَن میں غزال درد کا ہے

وہیں کہیں کسی گھاٹی میں تیرا ہجر بھی ہےمیرے لہُو سے جہاں اِتصال درد کا ہے

نفس نفس پہ پڑے آبلوں سے لگتا ہےنہ جانے روح میں کب سے اُبال درد کا ہے

یہی تو فرق ہے ان میں اور آپ میں فرحتکسی کو اپنا کسی کو خیال درد کا ہے

کسی نے پوچھا کہ فرحت بہت حسین ہو تمتو مُسکرا کے کہا سب جمال درد کا ہے

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں