اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہےسبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتریتو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہےسبھی کو کوئی نہ کوئی وبال درد کا ہے
سحر سِسکتے ہوئے آسمان سے اُتریتو دل نے جان لیا یہ بھی سال درد کا ہے
پیش از دن بھی ، پس شب بھی نظر آتا ہےتجھ کو جب دیکھتا ہوں رب بھی نظر آتا ھے
بعد آنکھوں کے مرا دل بھی نکالا اس نےاس کو شک تھا کہ مجھے اب بھی نظر آتا ھے
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیںیہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں
دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میںتُو نے یہ بات کہیں مُجھ سے چُھپانی تو نہیں
پھاڑوں نہ گریبان , دمادم نہ کروں میںاحساس کو اظہار سے باہم نہ کروں میں
میں روز اٹھاتا ہوں کسی خواب کی میتاور آپ یہ کہتے ہیں کہ ماتم نہ کروں میں
وہ چاروں سمت سے تنظیم کر کے مارتے ہیںہمارے جیسوں کو تقسیم کر کے مارتے ہیں
مذاکرات کے پھندے لگا کے ہیں رکھتےمعاہدات کو تسلیم کر کے مارتے ہیں
وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہےوہی خدا ہیں ، وہی بندگی ہماری ہے
نہ دکھ ہی بدلے ، نہ دکھ دینے والے بدلے ہیںوہی نصیب ، وہی زندگی ہماری ہے