مقرر · کو ہوسٹ

رابعہ

@Rab98249Rabia

13
پیش کردہ کلام
31
محفلوں میں شرکت
رابعہ کی آواز میں

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04

«ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیںاس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے Un se har waqt meri aankh ladi rehti hai پیر نصیرالدین آواز میں دستیاب
  2. 02 محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے Mohabbaton mein khasara ajeeb lagta hai نوشی گیلانی آواز میں دستیاب
  3. 03 آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے Aashna ho kar nazar na aashna karne lage حسرت موہانی آواز میں دستیاب
  4. 05 توں ساڈے ظرف نوں شاباش دے Toon saade zarf noon shabaash de پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  5. 06 اے چاند یہاں نہ نکلا کر Ae Chaand Yahaan Na Nikla Kar حبیب جالب آواز میں دستیاب
  6. 07 یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم Yeh aur baat teri gali mein na aayen hum حبیب جالب آواز میں دستیاب
  7. 08 ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی Zalim tha woh aur zulm ki aadat bhi bahut thi کلیم عاجز آواز میں دستیاب
  8. 09 گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے Guzar jayenge jab din guzre alam yaad aayenge کلیم عاجز آواز میں دستیاب