مقرر · کو ہوسٹ

رابعہ

@Rab98249Rabia

13
پیش کردہ کلام
31
محفلوں میں شرکت
رابعہ کی آواز میں

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی

کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25

«ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 7 سیکنڈ ہے۔

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھیمجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے Un se har waqt meri aankh ladi rehti hai پیر نصیرالدین آواز میں دستیاب
  2. 02 محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے Mohabbaton mein khasara ajeeb lagta hai نوشی گیلانی آواز میں دستیاب
  3. 03 آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے Aashna ho kar nazar na aashna karne lage حسرت موہانی آواز میں دستیاب
  4. 04 ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے Hangama hai kyun barpa thodi si jo pee li hai اکبر اللہ آبادی آواز میں دستیاب
  5. 05 توں ساڈے ظرف نوں شاباش دے Toon saade zarf noon shabaash de پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  6. 06 اے چاند یہاں نہ نکلا کر Ae Chaand Yahaan Na Nikla Kar حبیب جالب آواز میں دستیاب
  7. 07 یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم Yeh aur baat teri gali mein na aayen hum حبیب جالب آواز میں دستیاب
  8. 09 گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے Guzar jayenge jab din guzre alam yaad aayenge کلیم عاجز آواز میں دستیاب