مقرر · کو ہوسٹ

رابعہ

@Rab98249Rabia

13
پیش کردہ کلام
31
محفلوں میں شرکت
رابعہ کی آواز میں

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26

«یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئےآوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے Un se har waqt meri aankh ladi rehti hai پیر نصیرالدین آواز میں دستیاب
  2. 02 محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے Mohabbaton mein khasara ajeeb lagta hai نوشی گیلانی آواز میں دستیاب
  3. 03 آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے Aashna ho kar nazar na aashna karne lage حسرت موہانی آواز میں دستیاب
  4. 04 ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے Hangama hai kyun barpa thodi si jo pee li hai اکبر اللہ آبادی آواز میں دستیاب
  5. 05 توں ساڈے ظرف نوں شاباش دے Toon saade zarf noon shabaash de پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  6. 06 اے چاند یہاں نہ نکلا کر Ae Chaand Yahaan Na Nikla Kar حبیب جالب آواز میں دستیاب
  7. 08 ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی Zalim tha woh aur zulm ki aadat bhi bahut thi کلیم عاجز آواز میں دستیاب
  8. 09 گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے Guzar jayenge jab din guzre alam yaad aayenge کلیم عاجز آواز میں دستیاب