یادرفتگان کی آواز میں
دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی
کلام: انعام اللہ خاں یقین · محفل: دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین · 2026-02-04
«دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہی» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
دکھ تو دیتا ہے کروں میں تجھ کو حیراں تو سہیباغباں اب کے اجاڑے تو گلستاں تو سہی
ابر میں دیتا نہیں تو مجھ کو اے ساقی شرابمیں کروں شیشہ کو تیرے سنگ باراں تو سہی