مقرر

یادرفتگان

@Yaad_e_Raftgaan

53
پیش کردہ کلام
56
محفلوں میں شرکت
یادرفتگان کی آواز میں

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں

کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21

«یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میںطلاق دی گئی دلہن کو منہ دکھائی میں

نہ ان کو جھوٹ پہ اکسا یہ سادہ لوگ کبھیدرود پڑھتے رہے تیری ہمنوائی میں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 02 نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں Naye ghamze naye andaaz nazar aate hain پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب
  2. 03 عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے Arz-e-alam ba tarz-e-tamasha bhi chahiye جواد شیخ آواز میں دستیاب
  3. 04 تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں To kya yeh aakhri khwahish hai achha bhool jaaun جواد شیخ آواز میں دستیاب
  4. 05 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں Kaam aa sakein na apni wafayein to kya karein اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  5. 06 دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا Dil-o-Dimagh Ko Ro Loon Ga Aah Kar Loon Ga اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  6. 07 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا Nahin ke apna zamana bhi to nahin aaya وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  7. 08 تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا Tehreer se warna meri kya ho nahin sakta وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  8. 09 نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے Nigahon ke taqazay chain se marne nahin dete وسیم بریلوی آواز میں دستیاب