یادرفتگان کی آواز میں
یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں
کلام: راکب مختار · محفل: حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار · 2026-04-21
«یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔
یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میںطلاق دی گئی دلہن کو منہ دکھائی میں
نہ ان کو جھوٹ پہ اکسا یہ سادہ لوگ کبھیدرود پڑھتے رہے تیری ہمنوائی میں