عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے
کلام: جواد شیخ
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کرجتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے
نہ کوئی حرف ملامت نہ کوئی کلمۂ خیر شبنم شکیل
مہمان شاعر: شبنم شکیل
عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیےدنیا کو حال ہی نہیں حلیہ بھی چاہیے
اے دل کسی بھی طرح مجھے دستیاب کرجتنا بھی چاہیے اسے جیسا بھی چاہیے