یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں
کلام: راکب مختار
یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میںطلاق دی گئی دلہن کو منہ دکھائی میں
نہ ان کو جھوٹ پہ اکسا یہ سادہ لوگ کبھیدرود پڑھتے رہے تیری ہمنوائی میں
حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار
مہمان شاعر: راکب مختار
یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میںطلاق دی گئی دلہن کو منہ دکھائی میں
نہ ان کو جھوٹ پہ اکسا یہ سادہ لوگ کبھیدرود پڑھتے رہے تیری ہمنوائی میں