آمنہ نعیم کی آواز میں
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے
کلام: شہزاد احمد · محفل: رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد · 2026-01-11
«بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے آمنہ نعیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہےیہ نور ہے یا نور کی دریوزہ گری ہے
ہے آج بھی پہلو میں وہی زخم بہاراںاب تک مری آنکھوں میں ہر اک شاخ ہری ہے