8 اشعار

بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے

Bikhre hue taron se meri raat bhari hai

بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے

«بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے آمنہ نعیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہےیہ نور ہے یا نور کی دریوزہ گری ہے

ہے آج بھی پہلو میں وہی زخم بہاراںاب تک مری آنکھوں میں ہر اک شاخ ہری ہے

دنیا میں اندھیروں کے سوا اور رہا کیااک تیری تمنا سو چراغ سحری ہے

اب ساتھ نہ دے پائیں گے ٹوٹے ہوئے بازواڑتے ہوئے لمحوں سے مری ہم سفری ہے

ہر لحظہ بدلتی ہوئی آنکھوں پہ نہ جاؤدل کے لیے امید فزا بے خبری ہے

جلوے کی بصیرت کو سمجھتی نہیں آنکھیںآئینے کا مقدور پریشاں نظری ہے

اڑتے ہوئے آتے ہیں ابھی سنگ تمنااور کار گہہ دل کی وہی شیشہ گری ہے

چپ چاپ دریچوں کی طرف دیکھتے پھرنازندہ ہیں تو شہزادؔ یہی در بدری ہے

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں