ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتا
کلام: جواد شیخ
ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتاجو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا
کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایاوہ دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
ہزار صحرا تھے رستے میں یار کیا کرتاجو چل پڑا تھا تو فکر غبار کیا کرتا
کبھی جو ٹھیک سے خود کو سمجھ نہیں پایاوہ دوسروں پہ بھلا اعتبار کیا کرتا