بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے
کلام: شہزاد احمد
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہےیہ نور ہے یا نور کی دریوزہ گری ہے
ہے آج بھی پہلو میں وہی زخم بہاراںاب تک مری آنکھوں میں ہر اک شاخ ہری ہے
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہےیہ نور ہے یا نور کی دریوزہ گری ہے
ہے آج بھی پہلو میں وہی زخم بہاراںاب تک مری آنکھوں میں ہر اک شاخ ہری ہے