مقرر

صباگل

@fake_world33

14
پیش کردہ کلام
19
محفلوں میں شرکت
صباگل کی آواز میں

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں

کلام: قتیل شفائی · محفل: اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی) · 2025-11-28

«اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میںکِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں

دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کیذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے Hai azal ki is ghalat bakhshi pe hairani mujhe حفیظ جالندھری آواز میں دستیاب
  2. 02 بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز Begangi-e-tarz-e-sitam bhi bahana saaz ادا جعفری آواز میں دستیاب
  3. 03 جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی Jab ishq sikhata hai aadab-e-khud-agahi علامہ اقبال آواز میں دستیاب
  4. 04 تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں Tere tausan ko saba baandhte hain مرزا غالب آواز میں دستیاب
  5. 05 سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے Sulag raha hoon main dheere dheere, magar kisi par ayaan nahin hai اعتبارساجد آواز میں دستیاب
  6. 06 یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں Yun To Nahin Ke Dil Mein Ab Koi Nayi Dua Nahin افتخارعارف آواز میں دستیاب
  7. 07 عشق، محبت، پیار وے اَڑیا Ishq, muhabbat, pyaar ve arya پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  8. 08 حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا Haalaat ke qadmon pe qalandar nahin girta قتیل شفائی آواز میں دستیاب