صباگل کی آواز میں
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
کلام: قتیل شفائی · محفل: اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی) · 2025-11-28
«اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میںکِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں
دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کیذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں