8 اشعار

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں

Andhere chhod kar main jab ja raha tha ujaalon mein

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں

«اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میںکِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں

دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کیذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں

یقیناً اُن کی سوچوں پر بڑھاپہ چھا چکا ہو گااُلجھ کر رہ گئے جو لوگ ماضی کے حوالوں میں

بھڑکتے تھے کبھی جن میں گلابی آگ کے شعلےبس اب تو راکھ باقی رہ گئی ہے ان پیالوں میں

جنھیں ہم دیکھ کر مسجد کا رستہ بھُول جاتے تھےخدا معلوم ہوں گے وہ صنم اب کن شوالوں میں

وہ جب بھی رُو برُو آیا، نیا چہرہ کوئی لایااِک ایسا شخص بھی شامل تھا اپنے ملنے والوں میں

ہمیشہ گفتگو کر کے وہ شرمندہ ہُوا مجھ سےملے اس کو سدا میرے جواب اپنے سوالوں میں

کھُلی آنکھوں قتیلؔ اس کو بھلا کب دیکھ سکتا ہُوںملاقات اس سے اب ہوتی ہے خوابوں میں خیالوں میں

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں