مقرر

صباگل

@fake_world33

14
پیش کردہ کلام
19
محفلوں میں شرکت
صباگل کی آواز میں

سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے

کلام: اعتبارساجد · محفل: ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد) · 2025-12-01

«سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہےوہ آگ دل میں لگی ہے جس میں، تپش ہے لیکن دھواں نہیں ہے

تمہارے غم نے سکھا دیا ہے مجھے ہر اِک غم سے پیار کرناغمِ جہاں بھی ، یقین جانو، مزاجِ دل پر گراں نہیں ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے Hai azal ki is ghalat bakhshi pe hairani mujhe حفیظ جالندھری آواز میں دستیاب
  2. 02 بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز Begangi-e-tarz-e-sitam bhi bahana saaz ادا جعفری آواز میں دستیاب
  3. 03 جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی Jab ishq sikhata hai aadab-e-khud-agahi علامہ اقبال آواز میں دستیاب
  4. 04 تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں Tere tausan ko saba baandhte hain مرزا غالب آواز میں دستیاب
  5. 06 یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں Yun To Nahin Ke Dil Mein Ab Koi Nayi Dua Nahin افتخارعارف آواز میں دستیاب
  6. 07 عشق، محبت، پیار وے اَڑیا Ishq, muhabbat, pyaar ve arya پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  7. 08 حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا Haalaat ke qadmon pe qalandar nahin girta قتیل شفائی آواز میں دستیاب
  8. 09 اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں Andhere chhod kar main jab ja raha tha ujaalon mein قتیل شفائی آواز میں دستیاب