حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
کلام: قتیل شفائی
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریالیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتاٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریالیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میںکِسی نے میرے ماتھے پر دیا بوسہ خیالوں میں
دعا مت دو مجھے اے خیر خواہو، ترکِ اُلفت کیذرا سا تو بھرم رہنے دو میرا خوش جمالوں میں