6 اشعار

سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے

Sulag raha hoon main dheere dheere, magar kisi par ayaan nahin hai

سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے

«سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہےوہ آگ دل میں لگی ہے جس میں، تپش ہے لیکن دھواں نہیں ہے

تمہارے غم نے سکھا دیا ہے مجھے ہر اِک غم سے پیار کرناغمِ جہاں بھی ، یقین جانو، مزاجِ دل پر گراں نہیں ہے

خدا کی بستی میں ہر قدم پر، کوئی ہے گریاں کسی کے غم پریہ درد تو درد مشترک ہے، یہ آنکھ پرنم کہاں نہیں ہے

متاع عمر عزیز ساری، گنوا چکے پر سفر ہے جاریعجیب سودا ہے عاشقی کا کہ فکر سود و زیاں نہیں ہے

مری خموشی پہ ہنسنے والو، یہ بھول کر بھی نہ سوچ لیناکہ میرے پہلو میں دل نہیں ہے کہ میرے مُنہ میں زباں نہیں ہے

غزل کہو اعتبار ساجد اسی تڑپتی ہوئی نوا میںیہ طرز، یہ دلگداز لہجہ، سماعتوں پر گراں نہیں ہے۔

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں