شاعر

اعتبارساجد

Aitbar Sajid

31
منتخب کلام
31
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

اعتبار ساجد 1 جولائی 1948 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید اعتبار حسین ہے اور وہ ادبی دنیا میں "اعتبار ساجد" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ ابتدا میں وہ بلوچستان کے گورنمنٹ کالج نوشکی میں استاد رہے اور بعد ازاں اسلام آباد منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے نہ صرف تدریسی خدمات انجام دیں بلکہ ادبی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔اردو ادب میں اعتبار ساجد کا شمار رومانوی شاعری کے اہم ناموں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبوں کی لطافت، ہجر و وصال کی کیفیات، تنہائی، محبت اور انسانی احساسات نہایت خوش سلیقگی سے سمٹ آئے ہیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں نے انہیں جدید رومانوی شاعری کا معتبر شاعر بنا دیا۔ ان کے مشہور شعری مجموعے جیسے مجھے کوئی شام ادھار دو، دستک بند کواڑوں پر اور وہی ایک زخم گلاب سا اردو پڑھنے والوں میں بے حد مقبول ہیں۔شاعری کے علاوہ اعتبار ساجد ایک ہمہ جہت ادیب بھی ہیں۔ انہوں نے نثر، افسانہ، سفرنامہ، ناول اور بچوں کے ادب سمیت متعدد اصناف میں کامیاب تخلیقات پیش کیں۔ ان کی ادبی وسعت، منفرد اسلوب اور متنوع موضوعات نے انہیں اردو ادب کا معتبر اور قابلِ ذکر نام بنا دیا۔ ان کی شخصیت ایک ایسے تخلیق کار کی نمائندہ ہے جو جذبے، احساس اور مشاہدے کو یکجا کر کے فن کے کئی شعبوں میں دیرپا نقش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

منتخب اشعار

ہر اِک رہ رو، ہر اِک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا​

اَنا کے نام پر ہر شخص کو تسخِیر کیا کرنا​

پورا کلام ‹

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

تم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا

پورا کلام ‹
  1. 01 ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا آواز میں دستیاب
  2. 02 گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا آواز میں دستیاب
  3. 03 سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے Sulag raha hoon main dheere dheere, magar kisi par ayaan nahin hai آواز میں دستیاب
  4. 04 زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا Zakhmon ka doshala pehna dhoop ko sar par taan liya آواز میں دستیاب
  5. 05 یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم Ye barson ka ta'alluq tod dena chahte hain ham آواز میں دستیاب
  6. 06 ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے Tark-e-ta'alluq kar to chuke hain ek imkaan abhi baaqi hai آواز میں دستیاب