غالب کی آواز میں
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کلام: حیدر علی آتش · محفل: صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش · 2026-01-22
«سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے غالب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیاکہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سےبخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا